تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی

واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی

لاہور(ویب ڈیسک) ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) خرم علی نے کہا ہے کہ پاکستان میں واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ان جرائم کی روک تھام کے لیے جامع ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ ہیکنگ کے متاثرین کی مدد کے لیے جلد خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائے گی، جہاں صارفین کو ہیک شدہ اکاؤنٹس کی بحالی اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔خرم علی کے مطابق میٹا کے تعاون سے مقامی زبانوں میں عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ شہری سائبر فراڈ سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ ٹو اسٹیپ ویریفکیشن فعال کرنے کی مہم کے بعد واٹس ایپ ہیکنگ کے بعض کیسز میں کمی آئی ہے، تاہم سائبر مجرم اب نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم میں مجموعی اضافہ ہوا ہے، جبکہ بین الاقوامی تعاون سے پاکستان میں سرگرم کئی سائبر کرائم گروہوں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) کے غلط استعمال کی روک تھام پر بھی کام جاری ہے اور عوام کو ہدایت کی کہ موبائل فون پر موصول ہونے والا خفیہ او ٹی پی کوڈ کسی بھی صورت کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، کیونکہ یہی واٹس ایپ اور بینک اکاؤنٹس ہیک ہونے کی بڑی وجہ ہے۔