تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

خطرناک سیارچے سے بچاؤ کے لیے ایٹم بم مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

خطرناک سیارچے سے بچاؤ کے لیے ایٹم بم مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتا ہے، نئی تحقیق

نیو یارک( ویب ڈیسک)سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے قریب ہو اور اسے روکنے کے لیے وقت انتہائی کم ہو تو اس کے اندر ایٹم بم نصب کر کے دھماکا کرنا مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق فی الحال ایسا کوئی معلوم سیارچہ موجود نہیں جو مستقبل قریب میں زمین کے لیے خطرہ بن رہا ہو، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی وقت ایسا نیا خلائی پتھر دریافت ہو سکتا ہے، جس کی صورت میں انسانیت کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند دن ہی دستیاب ہوں گے۔سائنس دانوں کے مطابق زمین کو ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے مختلف دفاعی طریقوں پر کام جاری ہے، جن میں سیارچے کا رخ موڑنا یا اسے تباہ کرنا شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت بہت کم ہو تو روایتی طریقے، جیسے کسی خلائی جہاز کو سیارچے سے ٹکرا کر اس کا راستہ تبدیل کرنا، مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے۔تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ ایسی ہنگامی صورتحال میں سیارچے کے اندر ایٹم بم نصب کر کے اسے اندر سے تباہ کرنا زمین کو ممکنہ تباہی سے بچانے کا زیادہ مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس تصور کی عملی افادیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔