نیو یارک( ویب ڈیسک)سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے قریب ہو اور اسے روکنے کے لیے وقت انتہائی کم ہو تو اس کے اندر ایٹم بم نصب کر کے دھماکا کرنا مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق فی الحال ایسا کوئی معلوم سیارچہ موجود نہیں جو مستقبل قریب میں زمین کے لیے خطرہ بن رہا ہو، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی وقت ایسا نیا خلائی پتھر دریافت ہو سکتا ہے، جس کی صورت میں انسانیت کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند دن ہی دستیاب ہوں گے۔سائنس دانوں کے مطابق زمین کو ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے مختلف دفاعی طریقوں پر کام جاری ہے، جن میں سیارچے کا رخ موڑنا یا اسے تباہ کرنا شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت بہت کم ہو تو روایتی طریقے، جیسے کسی خلائی جہاز کو سیارچے سے ٹکرا کر اس کا راستہ تبدیل کرنا، مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے۔تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ ایسی ہنگامی صورتحال میں سیارچے کے اندر ایٹم بم نصب کر کے اسے اندر سے تباہ کرنا زمین کو ممکنہ تباہی سے بچانے کا زیادہ مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے، تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس تصور کی عملی افادیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔
خطرناک سیارچے سے بچاؤ کے لیے ایٹم بم مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتا ہے، نئی تحقیق
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی