تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں اچانک تبدیلیاں، مائیک ہیسن بھی حیران

قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں اچانک تبدیلیاں، مائیک ہیسن بھی حیران

برمنگھم( سپورٹس ڈیسک) پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے عبوری کوچ مائیک ہیسن نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں اچانک کی جانے والی بڑی تبدیلیوں پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔برمنگھم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کے فیصلے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور وہ خود بھی اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے۔مائیک ہیسن نے بتایا کہ وہ جاپان میں ایشین گیمز کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاہم انہیں مختصر اطلاع پر پاکستان واپس بلایا گیا اور بعد ازاں انگلینڈ روانہ کردیا گیا۔ان کے مطابق اسکواڈ میں تبدیلیوں کے فیصلوں میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ اب وہ دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ تیسرے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے متوازن ٹیم بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔مائیک ہیسن نے سلمان علی آغا کو گزشتہ چند برسوں کے بہترین پاکستانی کھلاڑیوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ سلمان علی آغا کو ٹیم سے باہر کرنے کی کیا وجہ ہے۔انہوں نے علی عثمان کو باصلاحیت گیند باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ کے موجودہ حالات میں ایسے انگلی سے گیند گھمانے والے گیند باز کو کھلانا مشکل ہے جو بیٹنگ بھی نہ کرسکتا ہو۔عبوری کوچ نے تسلیم کیا کہ اسکواڈ میں اچانک تبدیلیوں سے کھلاڑیوں کو تکلیف پہنچی ہوگی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب ماضی کے بجائے تیسرے ٹیسٹ اور مستقبل کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔