اسلام آباد( ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے، جس کا مقصد سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ادارے آئی ٹی انفراسٹرکچر کی بہتری اور تکنیکی استعداد بڑھانے کے لیے بھی مشترکہ اقدامات کریں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر رجسٹرار سپریم کورٹ سہیل محمد لغاری اور این آئی ٹی بی کے ڈائریکٹر جنرل فقیر اللہ نے دستخط کیے۔تقریب میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شریک ہوئے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال عدالتی کارروائیوں کو زیادہ آسان، مؤثر اور قابل رسائی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے سائلین اور وکلا کے لیے انصاف تک رسائی اور عدالتی خدمات کو مزید بہتر بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وکلا اور سائلین کو عدالتی اداروں سے آسان اور سہل رابطے کی سہولت فراہم کرنا ضروری ہے، جبکہ عدالتی ڈیٹا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ادارہ جاتی نظام کے تحفظ کے لیے سائبر سکیورٹی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی ڈیجیٹل تبدیلی کو محفوظ، مستحکم اور دیرپا بنانے کے لیے مؤثر سائبر سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے وزارت آئی ٹی، این آئی ٹی بی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق سیکرٹری وزارت آئی ٹی ضرار ہاشم خان نے سپریم کورٹ کو مکمل تکنیکی معاونت کی یقین دہانی کرائی، جبکہ این آئی ٹی بی سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کے شعبوں میں معاونت فراہم کرے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت عدالتی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے، معلوماتی نظام کو محفوظ بنانے اور سائلین و وکلا کے لیے سہولیات بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔