تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

سوئٹزرلینڈ میں ریلوے ٹریک سے سولر بجلی بنانے کا منفرد تجربہ

سوئٹزرلینڈ میں ریلوے ٹریک سے سولر بجلی بنانے کا منفرد تجربہ

سوئٹزرلینڈ( ویب ڈیسک) دنیا میں شمسی توانائی کے حصول کے لیے عموماً سولر پینلز چھتوں یا کھلے مقامات پر نصب کیے جاتے ہیں، تاہم سوئٹزرلینڈ نے ریلوے ٹریک کو ہی بجلی پیدا کرنے کے ایک منفرد ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا تجربہ شروع کر دیا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے علاقے بُٹس میں کمپنی سن ویز نے 100 میٹر طویل ریلوے ٹریک پر خصوصی سولر پینلز نصب کیے، جو ٹرینوں کی آمد و رفت کے باوجود بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کمپنی کے مطابق یہ سولر پینلز اس انداز میں تیار کیے گئے ہیں کہ انہیں ضرورت پڑنے پر آسانی سے نکالا جا سکتا ہے، تاکہ ریلوے ٹریک کی مرمت یا دیگر کاموں کے دوران کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔منصوبے کے تحت ریلوے ٹریک پر 48 فوٹو وولٹیک پینلز نصب کیے گئے ہیں، جو مجموعی طور پر 18 کلو واٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ٹرینوں کے گزرنے سے بھی ان پینلز کو نقصان نہیں پہنچتا۔رپورٹس کے مطابق مئی 2025 میں نصب کیے گئے ان سولر پینلز سے اب تک 16 ہزار کلو واٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا چکی ہے، جو کئی گھروں کی سالانہ توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔سن ویز کے مطابق یہ تجربہ 2028 تک جاری رکھا جائے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ایک کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پر ایسے سولر پینلز نصب کیے جائیں تو سالانہ تقریباً 200 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، جو تقریباً 60 گھروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی۔کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کو بھی ماحول دوست توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے اضافی زمین، زرعی رقبے یا قدرتی علاقوں کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔