تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

سوئٹزرلینڈ میں ریلوے ٹریک سے سولر بجلی بنانے کا منفرد تجربہ

سوئٹزرلینڈ میں ریلوے ٹریک سے سولر بجلی بنانے کا منفرد تجربہ

سوئٹزرلینڈ( ویب ڈیسک) دنیا میں شمسی توانائی کے حصول کے لیے عموماً سولر پینلز چھتوں یا کھلے مقامات پر نصب کیے جاتے ہیں، تاہم سوئٹزرلینڈ نے ریلوے ٹریک کو ہی بجلی پیدا کرنے کے ایک منفرد ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کا تجربہ شروع کر دیا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے علاقے بُٹس میں کمپنی سن ویز نے 100 میٹر طویل ریلوے ٹریک پر خصوصی سولر پینلز نصب کیے، جو ٹرینوں کی آمد و رفت کے باوجود بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کمپنی کے مطابق یہ سولر پینلز اس انداز میں تیار کیے گئے ہیں کہ انہیں ضرورت پڑنے پر آسانی سے نکالا جا سکتا ہے، تاکہ ریلوے ٹریک کی مرمت یا دیگر کاموں کے دوران کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔منصوبے کے تحت ریلوے ٹریک پر 48 فوٹو وولٹیک پینلز نصب کیے گئے ہیں، جو مجموعی طور پر 18 کلو واٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ٹرینوں کے گزرنے سے بھی ان پینلز کو نقصان نہیں پہنچتا۔رپورٹس کے مطابق مئی 2025 میں نصب کیے گئے ان سولر پینلز سے اب تک 16 ہزار کلو واٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا چکی ہے، جو کئی گھروں کی سالانہ توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔سن ویز کے مطابق یہ تجربہ 2028 تک جاری رکھا جائے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ایک کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پر ایسے سولر پینلز نصب کیے جائیں تو سالانہ تقریباً 200 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، جو تقریباً 60 گھروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی۔کمپنی کے مطابق یہ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کو بھی ماحول دوست توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے اضافی زمین، زرعی رقبے یا قدرتی علاقوں کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔