لاہور( ویب ڈیسک)استعمال شدہ آئی فون خریدنا بظاہر کم خرچ اور بہتر انتخاب لگ سکتا ہے، لیکن مکمل جانچ پڑتال کے بغیر کی گئی خریداری بعد میں اضافی اخراجات اور مختلف تکنیکی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق نئے آئی فونز کی بلند قیمتوں کے باعث بہت سے صارفین سیکنڈ ہینڈ یا استعمال شدہ ڈیوائسز خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ پرانے آئی فونز اب بھی بہتر کارکردگی پیش کرتے ہیں، تاہم خریداری سے قبل چند اہم نکات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔آئی او ایس اپ ڈیٹس کی محدود دستیابیپرانے آئی فون ماڈلز کو مستقبل میں محدود سافٹ ویئر اپ ڈیٹس ملتی ہیں، جس کے باعث صارفین نئی ٹیکنالوجی اور خصوصاً مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید فیچرز سے محروم رہ سکتے ہیں۔پرانا ہارڈویئر اور جدید فیچرز کی کمیایپل ہر نئے ماڈل میں پروسیسر، کیمرہ، بیٹری اور ڈسپلے سمیت مختلف فیچرز کو بہتر بناتا ہے۔ استعمال شدہ ماڈلز میں یہ جدید سہولیات موجود نہیں ہوتیں، جس سے صارف کا تجربہ متاثر ہو سکتا ہے۔بیٹری کی صحت کا جائزہ ضروریماہرین کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ آئی فون خریدتے وقت بیٹری کی صحت کو خصوصی طور پر چیک کرنا چاہیے، کیونکہ زیادہ استعمال ہونے والی بیٹری جلد ختم ہو سکتی ہے اور اس کی تبدیلی پر اچھی خاصی رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔وارنٹی اور مرمت کے اخراجاتزیادہ تر استعمال شدہ آئی فونز کی سرکاری وارنٹی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر فون میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اسکرین، بیٹری یا دیگر اصلی پرزوں کی مرمت یا تبدیلی کافی مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ استعمال شدہ آئی فون خریدنے سے پہلے بیٹری ہیلتھ، فون کی اصل حالت، مرمتی ریکارڈ اور تمام بنیادی فیچرز کا اچھی طرح جائزہ ضرور لیں تاکہ بعد میں کسی غیر متوقع خرچ یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔