تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

آسٹریلیا میں سمندری ہلاکتوں کا باعث بننے والی زہریلی الگئی دریافت

آسٹریلیا میں سمندری ہلاکتوں کا باعث بننے والی زہریلی الگئی دریافت

آسٹریلیا ( ویب ڈیسک)آسٹریلیا کی ریاست جنوبی آسٹریلیا میں گزشتہ سال لاکھوں سمندری جانداروں کی ہلاکت کا سبب بننے والی زہریلی الگئی کو اپنی نوعیت کی اب تک کی سب سے خطرناک اور طاقتور زہریلی الگئی قرار دیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق مارچ 2025 میں جنوبی آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں ایک پراسرار جھاگ نمودار ہوا تھا، جس کے بعد ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ اس دوران کئی سرفرز بھی کھانسی، گلے کی تکلیف اور نظر دھندلانے جیسی علامات کا شکار ہوئے۔یہ جھاگ ویٹپنگا بیچ کے ایک وسیع ساحلی علاقے میں پھیل گیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں سمندری گھوڑے، مچھلیاں اور آکٹوپس سمیت مختلف سمندری جاندار ہلاک ہو گئے تھے۔ماہرین کے مطابق کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس الگئی کی افزائش نے جنوبی آسٹریلیا کے ماحول، معیشت اور انسانی صحت پر نمایاں منفی اثرات مرتب کیے۔بعد میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ یہ تباہی کیرینا کرسٹاٹا نامی خردبینی الگئی سے خارج ہونے والے اعصابی زہریلے مادوں کے باعث پیش آئی۔جرنل نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق کیرینا کرسٹاٹا کے زہریلے اثرات اب تک تحقیق میں سامنے آنے والی دیگر نقصان دہ الگئی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے لیبارٹری میں تیار کی گئی کیرینا کرسٹاٹا کی مختلف اقسام پر تجربات کیے، جن سے معلوم ہوا کہ اس الگئی کی غیر معمولی زہریلی خصوصیات ہی گزشتہ سال ریڑھ کی ہڈی کے بغیر سمندری جانداروں، مچھلیوں، سمندری ممالیہ جانوروں اور پرندوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کی بنیادی وجہ تھیں۔