تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

آسٹریلیا میں سمندری ہلاکتوں کا باعث بننے والی زہریلی الگئی دریافت

آسٹریلیا میں سمندری ہلاکتوں کا باعث بننے والی زہریلی الگئی دریافت

آسٹریلیا ( ویب ڈیسک)آسٹریلیا کی ریاست جنوبی آسٹریلیا میں گزشتہ سال لاکھوں سمندری جانداروں کی ہلاکت کا سبب بننے والی زہریلی الگئی کو اپنی نوعیت کی اب تک کی سب سے خطرناک اور طاقتور زہریلی الگئی قرار دیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق مارچ 2025 میں جنوبی آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں ایک پراسرار جھاگ نمودار ہوا تھا، جس کے بعد ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ اس دوران کئی سرفرز بھی کھانسی، گلے کی تکلیف اور نظر دھندلانے جیسی علامات کا شکار ہوئے۔یہ جھاگ ویٹپنگا بیچ کے ایک وسیع ساحلی علاقے میں پھیل گیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں سمندری گھوڑے، مچھلیاں اور آکٹوپس سمیت مختلف سمندری جاندار ہلاک ہو گئے تھے۔ماہرین کے مطابق کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس الگئی کی افزائش نے جنوبی آسٹریلیا کے ماحول، معیشت اور انسانی صحت پر نمایاں منفی اثرات مرتب کیے۔بعد میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ یہ تباہی کیرینا کرسٹاٹا نامی خردبینی الگئی سے خارج ہونے والے اعصابی زہریلے مادوں کے باعث پیش آئی۔جرنل نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق کیرینا کرسٹاٹا کے زہریلے اثرات اب تک تحقیق میں سامنے آنے والی دیگر نقصان دہ الگئی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے لیبارٹری میں تیار کی گئی کیرینا کرسٹاٹا کی مختلف اقسام پر تجربات کیے، جن سے معلوم ہوا کہ اس الگئی کی غیر معمولی زہریلی خصوصیات ہی گزشتہ سال ریڑھ کی ہڈی کے بغیر سمندری جانداروں، مچھلیوں، سمندری ممالیہ جانوروں اور پرندوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کی بنیادی وجہ تھیں۔