تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

آسٹریلیا میں سمندری ہلاکتوں کا باعث بننے والی زہریلی الگئی دریافت

آسٹریلیا میں سمندری ہلاکتوں کا باعث بننے والی زہریلی الگئی دریافت

آسٹریلیا ( ویب ڈیسک)آسٹریلیا کی ریاست جنوبی آسٹریلیا میں گزشتہ سال لاکھوں سمندری جانداروں کی ہلاکت کا سبب بننے والی زہریلی الگئی کو اپنی نوعیت کی اب تک کی سب سے خطرناک اور طاقتور زہریلی الگئی قرار دیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق مارچ 2025 میں جنوبی آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں ایک پراسرار جھاگ نمودار ہوا تھا، جس کے بعد ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ اس دوران کئی سرفرز بھی کھانسی، گلے کی تکلیف اور نظر دھندلانے جیسی علامات کا شکار ہوئے۔یہ جھاگ ویٹپنگا بیچ کے ایک وسیع ساحلی علاقے میں پھیل گیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں سمندری گھوڑے، مچھلیاں اور آکٹوپس سمیت مختلف سمندری جاندار ہلاک ہو گئے تھے۔ماہرین کے مطابق کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس الگئی کی افزائش نے جنوبی آسٹریلیا کے ماحول، معیشت اور انسانی صحت پر نمایاں منفی اثرات مرتب کیے۔بعد میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ یہ تباہی کیرینا کرسٹاٹا نامی خردبینی الگئی سے خارج ہونے والے اعصابی زہریلے مادوں کے باعث پیش آئی۔جرنل نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق کیرینا کرسٹاٹا کے زہریلے اثرات اب تک تحقیق میں سامنے آنے والی دیگر نقصان دہ الگئی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے لیبارٹری میں تیار کی گئی کیرینا کرسٹاٹا کی مختلف اقسام پر تجربات کیے، جن سے معلوم ہوا کہ اس الگئی کی غیر معمولی زہریلی خصوصیات ہی گزشتہ سال ریڑھ کی ہڈی کے بغیر سمندری جانداروں، مچھلیوں، سمندری ممالیہ جانوروں اور پرندوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کی بنیادی وجہ تھیں۔